بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ کتاب "نظام کی تبدیلی: ڈونلڈ ٹرمپ کی بادشاہانہ صدارت اندر سے" (Regime Change: Inside the Imperial Presidency of Donald Trump) ایک انکشافی کام ہے جو میگی ہیبرمین (Maggie Haberman) اور جوناتھن سوان (Jonathan Swan)، نیویارک ٹائمز کے نامور صحافیوں کی 1000 سے زائد انٹرویوز اور تین سالہ روداد نگاری کا نتیجہ ہے۔ یہ کتاب جو ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کے آغاز کے صرف 17 ماہ بعد شائع ہوئی اور اسی پہلے دن ایک لاکھ 50 ہزار نسخے فروخت کرنے کا غیرمعمولی ریکارڈ قائم کیا، وائٹ ہاؤس میں اقتدار کے ڈھانچے کی تبدیلی اور اس کی ایک "شہنشاہی صدارت (Imperial Presidency)" اور لامحدودیت اور مطلق العنانیت کی طرف حرکت کی چونکا دینے والی اور بےپردہ تصویر پیش کرتی ہے۔

حصۂ دوئم:
نیتن یاہو اور اس کی ٹیم نے ان حالات کی وضاحت کی جنہیں وہ تقریباً یقینی فتح کے طور پر پیش کر رہے تھے، جیسے:
- ایران کا بیلسٹک میزائل پروگرام چند ہفتوں میں تباہ کیا جا سکتا ہے۔
- حکومت اتنی کمزور ہو جائے گی کہ وہ آبنائے ہرمز کو بند نہیں کر پائے گی۔
- اور اس بات کا امکان بہت ہی کم ہے کہ ایران پڑوسی ممالک میں امریکی مفادات کو نقصان پہنچا سکے!
اس کے علاوہ، اسرائیلی خفیہ ایجنسی کی معلومات سے معلوم ہوتا تھا کہ ایران کے اندر سڑکوں پر مظاہرے دوبارہ شروع ہوں گے اور اسرائیلی جاسوسی ادارہ فسادات اور بغاوتوں کو ہوا دے گا، اور ایک شدید بمباری مہم ایرانی مخالفین کو ریاست کا تختہ الٹنے کے لئے حالات فراہم کر سکے گی۔ اسرائیلیوں نے ایران کے کرد مخالفین کے عراقی سرحد پار کرکے شمال مغرب میں زمینی محاذ کھولنے، رژیم کو جا بجا مصروف کرانے اور ان کے خاتمے کو تیز کرنے کا امکان بھی ظاہر کیا۔
نیتن یاہو نے اپنا منصوبہ یکساں اور پرسکون لہجے میں پیش کیا؛ لگتا تھا کہ یہ بات کمرے میں موجود سب سے اہم شخص، یعنی امریکی صدر، کو پسند آئی ہے۔
ٹرمپ نے نیتن یاہو سے کہا:
"میرے خیال میں یہ اچھا ہے۔" نیتن یاہو کےلئے، ٹرمپ کے یہ الفاظ، امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ آپریشن کےلئے ہری بتی، اور منظوری کی علامت، تھے۔
نیتن یاہو اکیلا شخص نہیں تھا جو اس اجلاس سے اس سوچ کے ساتھ باہر آیا کہ 'ٹرمپ نے تقریباً اپنا فیصلہ کر لیا ہے۔' ٹرمپ کے مشیر دیکھ سکتے تھے کہ وہ نیتن یاہو کی فوجی اور انٹیلیجنس صلاحیتوں سے متعلق وعدوں سے بہت زیادہ متاثر ہؤا ہے، بالکل اسی طرح جب ان دونوں نے جون میں ایران پر 12 روزہ جنگ مسلط کرنے سے پہلے بات کی چیت کی تھی تو ٹرمپ متاثر ہؤا تھا۔
اس سے قبل، 11 فروری کو وائٹ ہاؤس کے دورے میں، نیتن یاہو نے کابینہ کے کمرے میں موجود امریکیوں کے ذہنوں کو ایران کے 86 سالہ رہبر آیت اللہ علی خامنہای کے وجود کے خلاف خطرہ پیدا کرنے پر مرکوز کرانے کی کوشش کی تھی۔
جب کمرے میں دوسروں نے نیتن یاہو سے اس آپریشن کے ممکنہ خطرات کے بارے میں پوچھا تو اس نے ان خطرات کو تسلیم کیا لیکن ایک اہم نکتہ اٹھایا: اس کے خیال میں، کارروائی نہ کرنے کے خطرات کارروائی کرنے کے خطرات سے زیادہ تھے۔ اس نے استدلال کیا کہ کارروائی کی قیمت صرف اس صورت میں بڑھتی ہے جب حملہ ملتوی کیا جائے اور ایران کو میزائل کی پیداوار تیز کرنے اور اپنے جوہری پروگرام کے گرد حفاظتی ڈھال بنانے کےلئے مزید وقت دیا جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پیشکش: سید محمد حسین راجی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ